25 ستمبر، 2026، 4:32 PM

ایران اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

ایران اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

ایرانی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی، جس میں تہران اور اسلام آباد کے تعلقات کو مزید مستحکم اور گہرا کرنے، دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمتوں پر عمل درآمد کی تازہ صورتحال اور علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ 81 ویں اجلاس کے دوران ملاقات میں، دونوں ممالک میں تعاون کے فروغ، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، اعلیٰ حکام کے باہمی دوروں کے دوران طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اور ان معاہدوں پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ایرانی صدر نے دونوں قوموں کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور اعتقادی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے ایران اور پاکستان کے تعلقات کو پائیدار اور وسیع مشترکہ اقدار پر مبنی قرار دیا۔

ایران اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

انہوں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے عزم کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر پزشکیان نے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مسلسل رابطوں اور مشاورت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان روابط کا تسلسل معاہدوں پر تیزی سے عمل درآمد اور تہران و اسلام آباد کے مشترکہ مفادات کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔

ایرانی صدر نے علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے لیے پاکستان کے اصولی مؤقف اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کشیدگی میں کمی اور علاقائی بحرانوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مسلسل مشاورت اور سفارتی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور اس کے امن و سلامتی پر اثرات بھی زیر بحث آئے۔

اس موقع پر آبنائے ہرمز کی صورتحال، جزیرہ نما عرب میں ہونے والی پیش رفت اور علاقائی سلامتی سے متعلق دیگر امور بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کے اہم موضوعات میں شامل تھے۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں، علاقائی مذاکرات کی صورتحال اور اختلافات کے پُرامن حل کے لیے سفارتی و ثالثی کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی خطے میں تنازعات کے جاری رہنے اور کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے سفارتی راستوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمت کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے تعمیری اور مخلصانہ کردار جاری رکھنے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اظہار کیا۔

News ID 1941649

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha